چنیوٹ میں سیلابی پانی کی وجہ سے دیہاتوں کا رابطہ شہروں سے کٹ جانے کے باعث جہاں دیہاتوں میں بسنے والے کسانوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے وہیں سبزیاں بر وقت منڈی میں نہ پہنچنے کی وجہ سے ان کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
سیلاب کی وجہ سے جہاں تباہی نے سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ کیں وہیں کچے مکانات کو بھی صفحہ ہستی سے مٹا کر رکھ دیا ہے اب جبکہ پانی کی سطح ملسل کم ہو رہی ہے وہیں شہروں اور دیہاتوں کو ملانے والی سٹرکیں تباہ ہونے کے باعث ان علاقوں سے زرعی اجناس کے حصول میں مشکلات کا بھی سامنا ہے
سیلاب کا پانی کھیتوں میں کھڑا ہونے کی وجہ سے کھیتوں میں کھڑی تیار سبزی کی فصلیں بھی تباہ ہو کر رہ گئی ہیں جس سے کسانوں کو مالی طور پر کافی نقصان پہنچا ہے اور سبزیوں کے بر وقت منڈیوں میں نہ پہنچنے کی وجہ سے ان کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے آلو 40 روپے کلو، پیاز 60 روپے کلو، ٹماٹر 80 روپے کلو ،مٹر 200 روپے کلو، کدو 50 روپے کلو، بھنڈی 100 روپے کلو اور کریلا 70 روپے کلو فروخت ہو رہا ہے