دہشت گردی کے خلاف موثر حکمت علمی اور جراء تمندانہ اقدامات کی ضرورت ہے،علامہ عبدالخالق اسدی

Agha Asadi

Agha Asadi

لاہور : دہشت گردی کے خلاف موثر حکمت علمی اور جراء تمندانہ اقدامات کی ضرورت ہے، دہشت گردی سے اس وقت نجات مل سکتی ہے جب ان کے سہولت کاروں کے خلاف کاروائی کریں، سانحہ شکار پور سندھ حکومت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے، وفاق اور سندھ حکومت سانحہ شکار پور کے ذمہ دار ہیں ،سندھ دہشت گردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے،پیپلز پارٹی دہشت گردوں کیخلاف ایکشن سے گریزاں ہے ،ہم شہدائے شکار پور کے خون کو رئیگاں نہیں جانے دینگے ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ عبدالخالق اسدی نے سانحہ شکار پور پر منعقدہ تعزیتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم نے سب سے بڑی قربانیاں دی ہے۔

ہمیں دہشت گردی کے خلاف آواز اُٹھانے کی سزا دی جارہی ہے ،دہشت گرد ٹولہ ملک بھر میں سرگرم ہے ،دہشت گردوں کے سیاسی سرپرست دہشت گردی کے خلاف ایکشن پلان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ،انہوں نے کہا کہ حکمران دہشت گردوں کے سامنے بے بس ہے،وزیر داخلہ کا کالعدم جماعتوں کو بلا کر کاروائی نہ کرنے کی یقین دہانی اس بات کی دلیل ہے کہ حکمران جماعت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سنجیدہ نہیں ،سندھ سمیت ملک بھر میں مسلمانوں کی تکفیر پر انتظامیہ خاموش ہیں ،علامہ اسدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ قوم مزید لاشیں اُٹھانے کے متحمل نہیں سانحہ پشاور اور سانحہ شکار پور کے شہداء کے لواحقین اب ان حکمرانوں کے خلاف میدان میں آچکے ہیں،ہم شہداء کمیٹی کے ہر فیصلے کی بھر پور حمایت کریں گے۔